"Let there arise out of you a band of people inviting to all that is good enjoining what is right and forbidding what is wrong; they are the ones to attain felicity".
(surah Al-Imran,ayat-104)
Image Not found for user
User Name: afzal_zeshan
Full Name: afzal zeshan
User since: 4/Apr/2008
No Of voices: 59
 Views: 6655   
 Replies: 2   
 Share with Friend  
 Post Comment  



Yasir Imran Mirza Proud to be Pakistani


Innocent Muslim lady murdered in Germany on using veil

The Egyptian funeral of Marwa El Sherbini, who was brutally killed outside a courtroom in the German city of Dresden , turned into a mass rally Monday against Germany , the Egyptian Foreign Ministry and racism.

Marwa El Sherbini - Veil Martyr

The 32-year-old pharmacist, dubbed the "veil martyr" by the Egyptian media, was stabbed to death Wednesday by a man who had been fined 780 euros for taunting her with racial slurs in August 2008. The assailant, known as "Axel W.," appealed the fine, and while the pregnant El Sherbini was preparing her testimony, he stabbed her 18 times in front of her husband and 3-year-old son. The husband was severely injured after unsuccessfully trying to protect his wife.

Thousands attended El Sherbini's burial, which took place in her hometown of Alexandria , just a few hours after her body arrived in Egypt on Monday morning. Mourners carried banners condemning racism and criticized both German and Egyptian authorities' reaction to the crime.


Although the Egyptian Foreign Ministry denounced the act and asked its German counterpart for an official response, Egyptians were upset at the way their government had been dealing with the matter. "The passive policy adopted by the foreign ministry will lead to similar incidents against other Egyptians and Muslims abroad," said El Sherbini's brother Tarek.

"Now we as Muslims and Arabs have a chance to show the whole world that real terrorism takes place in the West," he added. "In the West, they don't recognize us. There is racism there. The Germans are the enemies of God."

The funeral, which was attended by a large number of Egyptian politicians and parliament members, was overwhelmed with chants such as "We need revenge," "Where is our foreign ministry?" and "Down with Germany " and "No to racism."

Egyptians were angry that the murder had received little attention among German and international media. The absence of the German ambassador at El Sherbini's funeral also sparked ire. El Sherbini moved to Germany four years ago to be with her husband, Elwi Ali Okaz, who was granted a fellowship to study genetic engineering at the Max Planck Institute.

The incident between El Sherbini and Axel W. began in a city playground, where El Sherbini was with her son. An argument developed in which Axel W. is said to have hurled abuse at the woman, including calling her a terrorist. El Sherbini filed an official complaint, which led to the fine.

"“ Amro Hassan in Cairo

اچھالیں اب مغربی شدت پسندی Ú©Ùˆ Ø¨Ú¾ÛŒ

بی بی سی Ú©ÛŒ خبر ہے جرمنی میں ایک مصری خاتون Ú©Ùˆ حجاب پہننے پر پہلے تو تنگ کیا گیا پھیر جب وہ باز نہیں آئی تو چاقو Ú©Û’ شدید وار کر Ú©Û’ اسکو قتل کردیا، خاتون حاملہ بھی تھیں ØŒ Ù…رحومہ Ú©Û’ شوہر اپنی رفیق حیات Ú©Ùˆ بچاتے ہوے شدید زخمی ہوے اور ابھی تک ہسپتال میں ذندگی اور موت Ú©ÛŒ جنگ Ù„Ú‘ رہے ہیں، پہلے تو میں بہت حیران ہوا کہ بی بی سی والوں Ù†Û’ ایسی خبر کیوں چھاپ دی ØŒ بی بی سی پر کشمیر میں بھارتی مظالم Ú©ÛŒ ایک خبر بھی نہیں ہوتی لیکن حریت پسندوں Ú©ÛŒ جوابی کاروائی کا ذکر ضرور ہوتا ہے جسے دہشت گردی Ú©ÛŒ ذمرے میں لکھا جاتا ہے

سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو دکھائی گئی تو پوری دنیا نے شور مچایا اور کچھ پاکستانیوں نے بھی جنہوں نے اپنا ایمان پیسے کے عوض بیچا ہوا ہے، اب مغربی شدت پسندی کی خبرکو بھی اچھالیں نا، مسلمانوں پر تو زور شور سے چڑھ دوڑتے ہیں ان گوری چمڑی والوں پر بھی چڑھ کے دکھائو، یہ قتل بھری عدالت میں ہوا جہاں پولیس بھی اس مجرم کو روک نہ سکی اور اسے نے خاتون پر ۱۸ وار کیے مگر پولیس شاید سو رہی تھی

بی بی سی والے اس خبر کو مٹا نہ دیں اس لیے اسکو کاپی کر کے یہاں رکھ رہا ہوں تا کہ کوئی ثبوت تو رہے ، ساتھ ہی اس خبر کا سکرین شاٹ بھی


AlMadina AlMunawara




خبر کا ربط


Continue reading

 Reply:   مسلم حکمرانوں ہوش میں آجاؤ
Replied by(bint_e_muslim) Replied on (11/Jul/2009)

سوال تو یہ ہے کہ بھری عدالت میں سیکیورٹی پولیس کی موجودگی میں وہ شخص چاقو کیسے لے کر چلا گیا ۔۔؟
پولیس نے اسے گرفتار کرنے اور حملہ کرنے سے روکنے کے بجائے گولیاں کیوں چلائیں ۔۔۔ ( جس سے مسلمان خاتون کے شوہر کو چار گولیاں لگیں ) اور اطلاعات کے مطابق وہ ابھی تک کومے میں ہے ۔۔
مسلمانوں سے نفرت اور اسلام اور اسلامی حکامات کی توہین کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔۔۔۔ لیکن ۔۔اس سے بھی بڑھ کر ان واقعات پر مسلم ممالک کی بے حسی بھی قابل مذمت ہے ۔۔۔
عامر چیمہ کا واقعہ بھی سب کو یاد ہوگا ۔۔۔ بالآخر ۔۔ عامر چیمہ کی لاش ہی پاکستان آئی ۔۔۔
وہ واقعہ بھی جرمنی میں ہوا ۔۔۔۔ کیا اس جرمن شخص کے ساتھ بھی جرمن عدالت قتل کا مقدمہ چلا کر ویسا ہی سلوک کرے گی جیسا عامر چیمہ کے ساتھ کیا گیا ؟
ڈاکٹر عافیہ کا کیس سب جانتے ہیں عالمی عدالت نے بھی انھیں بے قصور قرار دیا ۔۔۔ ان پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ انھوں نے امریکن فوجیوں پو گولیاں چلائیں ۔۔
جبکہ حقائق بتاتے ہیں ۔۔ جس اسلحہ سے گولیاں چالنے کا الزام لگایا جارہا ہے ان پر ۔۔ اسے چلانا تو دور کی بات اسے اٹھانا بھی ایک مشقت طلب کام ہے جو ڈاکٹر عافیہ جیسی کمزور سی خاتون تو کبھی نہیں کر سکتی تھیں ۔۔
اب تک اس بات کی اتنی کڑی سزا وہ بھگت رہی ہیں ۔۔
کیا ایگزل ڈبلیو کسی سزا کا مستحق ٹھہرے گا ۔۔۔
یا اسے تمغہء شجاعت سے نوازا جائے گا ۔۔۔۔
آخر ایک مسلمان اور ایک " دہشت گرد " کا خاتمہ کیا ہے ۔۔۔
کاش کے مسلم دنیا بھی کوئی صدائے احتجاج بلند کرے جیسا کی ۔۔۔ مغربی دنیا اور کفار اپنےا ور اپنے لوگوں کے لیے کر رہے ہیں ۔۔ یا کم از کم
او ' آئی ' سی ہی ایسے تمام مسئلوں کو عالمی سطح پر اٹھا کر مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔۔

 Reply:   شیربینی Ú©Ùˆ مصر میں حجاب Ú©Û’ لیے شہید قرار دیا گیا ہے
Replied by(Noman) Replied on (11/Jul/2009)
If Afia goes to court, she has to go through strip search. But if German goes to court he can bring knife as well

مصر میں شیربینی کے حامی

شیربینی کو مصر میں حجاب کے لیے شہید قرار دیا گیا ہے

جرمنی کی عدالت میں قتل کی گئی ایک مسلم خاتون کی لاش ان کے آبائی وطن مصر لائی گئی ہے جنہیں حجاب کے لیے شہید قرار دیا گیا ہے۔

انہیں ایک اٹھائیس سالہ جرمن شخص نے عدالت میں چاقو مار کر ہلاک کردیا تھا جسے عدالت نے خاتون کے مذہب کی توہین کرنے کا قصور وار پایا تھا۔

اکتیس برس کی مصری خاتون مروی شیربینی پر جرمن شخص ایکسل ڈبلیو نے اٹھارہ بار چاقو سے حملہ کیا تھا۔ ایکسل کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

شیربینی کے شوہر ایلوی عکاظ اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہوئے تھے جو ہسپتال میں زندگی اور موت سے لڑ ہیں۔ عدالت میں حملے کے وقت انہوں نے اپنی بیوی کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

شیربینی کو سکندریہ میں دفن کیا گیا ہے اور ان کے جنازے میں جرمن سفارت کاروں سمیت مصر کے اعلی اہلکاروں نے بھی شرکت جہاں پر سینکڑوں سوگوار بھی موجود تھے۔

شیربینی حجاب Ú©Û’ طور پر سکارف پہنتی تھیں جس پر ایکسل Ù†Û’ انہیں 'دہشتگرد"˜ کہا تھا۔ اپنی مذہبی شناخت Ú©ÛŒ توہین Ú©Û’ خلاف شیربینی Ù†Û’ عدالت میں ایکسل Ú©Û’ خلاف مقدمہ کیا اور عدالت Ù†Û’ ایکسل Ú©Ùˆ قصوروار پاکر ان پر تقریبا پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ یہ واقعہ دو ہزار آٹھ کا ہے Û”

ایکسل نے عدالت کے اسی فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی اور مقدمے کی سماعت کے لیے شیربینی اپنے پورے خاندان کے ساتھ وہاں موجود تھیں جب قاتل نے ان پر چاقو سے حملہ کیا۔ ڈاکٹروں نے کوشش بہت کی لیکن انہیں نہیں بچایا جا سکا۔ وہ تین ماہ کی حاملہ تھیں۔ حملے کے وقت ان کا تین سالہ بیٹا بھی ان کے ساتھ تھا۔

اطلاعات کے مطابق شیربینی کے شوہر عکاظ بچانے کی کوشش میں قاتل کے چاقو اور پولیس کی گولی دونوں سے زخمی ہوئے جن کی حالت نازک ہے۔ جرمنی میں وکلاء کا کہنا ہے کہ اٹھائس سالہ شخص میں بیرونی خاص طور پر مسلمانوں سے سخت نفرت پائی جاتی ہے۔

اس کیس میں مسلم دنیا خاص طور پر مصر کی بڑی دلچسپی رہی ہے۔ مصر کے اخبارات نے اس بات پر زبردست برہمگی ظاہر کی ہے کہ آخر ایک قصور وار شخص عدالت میں چاقو کیسے لے گیا اور یہ سب

عدالت میں ہونے کی اجازت کس نے دی۔ میڈیا میں شیربینی کو 'حجاب کا شہید قراردیا گیا ہے۔

Please send your suggestion/submission to
Long Live Islam and Pakistan
Site is best viewed at 1280*800 resolution