Search
 
Write
 
Forums
 
Login
"Let there arise out of you a band of people inviting to all that is good enjoining what is right and forbidding what is wrong; they are the ones to attain felicity".
(surah Al-Imran,ayat-104)
Image Not found for user
User Name: Amjad_Malik
Full Name: Amjad Malik
User since: 15/Jun/2007
No Of voices: 287
 
 Views: 145   
 Replies: 0   
 Share with Friend  
 Post Comment  

میری ووٹ میری مرضی

بیرسٹر امجد ملک 

 

 

الیکشن کمپئین کے آخری دن مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ تمام تر زیادتیوں کے باوجود ن لیگ الیکشن جیت رہی ہے ۔ ڈیرہ غازی خان کی بستی تالپور میں خطاب میں شہبازشریف نے کہا کہ نوازشریف نے ملک کو اندھیرے ختم کئے ، مرکز اور پنجاب میں ن لیگ کی جیت یقینی ہے۔

 

شیخ رشید احمد این اے ساٹھ میں الیکشن ملتوی ہونے پر نالاں تھے کیونکہ ضمنی تک انہیں ہنوز دلی دور است نظر آرہا ہے۔

عمران خان نے کراچی میں دشمنوں ہر ہی نکتہ اعتراض مرکوز رکھا لیکن شو اچھا تھا اور ن لیگ کے بیانئے کو فوج کے خلاف سازش سے تعبیر کیا اور اسکی حفاظت کے لئے ہر اوّل دستے کا کردار ادا کرنے کا وعدہ بھی کیااورامید ہے جو لوگ کراچی آئےوہ لوگ ووٹ ڈالنے بھی آئیں گے۔ 

بلاول زرداری نے تو بیچ چوراہے ہنڈیا پھوڑتے

ہوئے کہا ہے کہ "‏عام آدمی بھی جانتا ہے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے" اور

پیپلز پارٹی آخری دنوں میں پنجاب میں اعتزاز احسن کی پھبتیوں تک محدود ہوکر سندھ میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے لیکن پر امید ہے کہ دونوں صورتوں میں ضرورت مند انکے در تک آئیں گےلگتا بھی ایسا ہی ہے۔ سینیٹر رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر نے اپنے بیانات میں قومی سوچ کی عکاسی کی ہے جو قابل تحسین ہے۔ دہشت گردی کی نئی لہر تشویشناک ہے اسکے برے اثرات اکثر اوقات ٹرن آؤٹ اور امیدواران کی زندگی پر پڑتے ہیں۔ فوج اور عدلیہ بحرالحال الیکشن لڑ نہیں رہے تو سیاستدانوں کو انہیں اپنی گفتگو سے باہر ہی رکھنا چاہیےاور منشور اور ایشو پر فوکس رکھنا چاہیے۔ سیاستدانوں کو اپنی تقریروں میں فار اور اگینسٹ ایسی دشنام طراز ی سے پرہیز جائز ہے تاکہ الیکشن ایشوز پر مرکوز رہے۔

 

لیکن بحر صورت ملئین ڈالر سوال یہ ہے کہ ووٹ کس کو ڈالی جائےاور کیوں ؟ کیونکہ یہ میرا ووٹ ہے اور یہ میری مرضی ہے ! آئیے دیکھتے ہیں کہ ووٹ دیتے وقت کیا بڑے بڑے مسائل اور نکات ہمارے سامنے ہونے چاہیے:

 

ترقیاتی کام: پہلا نقطہ ترقیاتی کام ہیں جنہیں صوبائی ترقی میں پانچ سال میں یارڈ سٹک کے طور پر دیکھنا چاہیےکہ کس صوبے نے پیرس بنانے کی کوشش کی اور کونسا صوبہ بنیادی سہولیات میں اعلی کارکردگی نہیں دکھا سکا۔ میٹرو ایک ادنی اور پاک چین راہداری منصوبہ بڑی تصویر ہےجو  دوسرے ترقیاتی منصوبوں کی طرح مزاکرےکے لئے اچھی شروعات ہے۔

 

احتساب: نیب کا رعب دبدبہ اپنی جگہ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کونسی جماعت نیب کے سامنے ۵ سالوں میں جواب دہ رہی اور کس نے نیب اور احتساب سے پہلو تہی کی۔ نیب نے آدھا پنجاب اندر کردیا ہے لیکن خیبر پختونخواہ کیوں اپنے ہی بنائے احتساب کے قانون پر عملداری سے گریزاں رہی اور پشاور میٹرو کا فیصلہ اگر پنجاب میں ہوتا تو کیا ہوتا۔ احتساب مگر سب کا بحر صورت عوامی اور مقبول مطالبہ ہےاور اس پر عمل ہونا چاہیے۔ کون اس پر بہتر عمل کرے گا ہے یہ میرا سوال۔

 

تبدیلی: عوام ہمیشہ تبدیلی لے لئے ووٹ دیتے ہیں اور یہ نعرہ بھی اپنی جگہ مقبولیت کا حامل ہے اور جو عوام کی حالت زار میں حقیقتاً تبدیلی لا سکے اسے ضرور ووٹ دیتے وقت مد نظر رکھنا چاہیے۔لیکن جو تبدیلی 2008 میں ق لیگ اور 2013 میں پیپلز پارٹی کا مقدر بنی اس کے لئے ایک سال پہلے نواز شریف کو "مجھے کیوں نکالا " کہنے کا موقعہ کیوں دیا گیا۔ کیوں 2018 میں عوام کو اسکے صحیح احتساب کا موقعہ نہیں دیا گیا جس نے اسے مظلوم بنا دیا۔

 

نوجوان: ہر معاشرے میں نوجوان مستقبل کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ انکی سیاست میں دلچسپی یقینی طور پر خوش آئیند ہے۔ لیکن انکو خوابوں کے وعدوں میں رکھنے کی بجائے عملیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پرفارمنس کے زریعے قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ شہباز شریف کے پنجاب میں پوزیشن ہولڈرز کی پزیرائی، لیپ ٹاپ سکیم ، سو ارب سے زائد کے پیف سکالر شپ ، دانش سکول اور تعلیمی میدان میں یکساں موقع عمران خان کے لیے پشاور میں عملی مظاہرے کے متقاضی ہیں۔ بچے لیپ ٹاپ تو پنجاب حکومت کا استعمال کرتے ہیں لیکن عمران خان کے تبدیلی کے نعرے کو زور و شور سے سنتے اور سپورٹ کرتے ہیں ۔ یہ برداشت کی نئی سطح ہے جسے ملکی سطح پر برقرار رکھنا چاہیے۔ بلاول بھٹو ، مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز کی موجودگی آنے والے کل میں نوجوان نسل کی نمائیندگی کی ضمانت ہےجو خوش آئیند ہے۔

 

پانی اور بجلی کے زرائع۔ پچھلے الیکشن اور موجودہ الیکشن میں پانی اور بجلی متواتر موزوں ایشوز ہیں ۔ اب جبکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم ہے جو ایک اچھی کامیابی کی نشانی ہے۔ اب بھاشا ڈیم اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور اسکے وعدے اور تکمیل کے تخمینہ اور اسکے تکمیل کے وقت پر یقین عملیت پسندی اور پرفارمنس سے پرکھنا ہوگا۔

 

خود احتسابی: باتیں سب کرتے ہیں لیکن گھر سب کے بڑے ہیں ۔ محلات سے نکل کر جب برطانوی وزیراعظم سے ۵ کمروں کے گھر میں ملتے ہوں گے تو سوچتے ہوں گے کہ یہ سیاست میں کیوں آیا۔ ہمیں دیکھنا ہے کی قائد اعظم کی طرح سیاست کو جراُت سے چائے کی پیالی پہ کون لے کے آتا ہے۔ سادگی کس کا شعار ہے، یا ہو سکتا ہے۔ عمران کی چپل ، شہباز کے خاکی یونیفارم اور بلاول کی اجرک کے ساتھ ساتھ صوبائی عیش و عشرت اور انٹرٹینمنٹ بجٹ کا صوبائی موازنہ بھی ضروری ہے۔ ساتھ ساتھ سچ کمیشن کے زریعے صحیح دولت کا تخمینہ اور اس پر مناسب ٹیکس بھی مستقبل کی سیاست پر گہرے اور کارآمد تاثرات چھوڑ سکتا ہے۔

 

لیڈرشپ- تینوں بڑی پارٹیوں کے لیڈران دیکھنے میں قابل پزیرائی ہیں- عمران خان تو شو بز انڈسٹری کا آنکھ تارا اور متوالہ رہا ہی ہے آکسفورڈ کا بلاول بھی کم نہیں اور نواز شریف بھی خوبصورت تھے اب شہباز شریف بھی نیلے رنگ میں جچتے ہیں- لیکن یاد رکھئے یہ مقابلہ حسن نہیں مقابلہ کارکردگی ہے اور قابل عمل وعدوں پر یقین اور انکی ٹریک ریکارڈ کے زریعے تکمیل پر یقین ہےاور یہ کہ مشکل وقت میں لیڈر سویا تو نہیں رہے گا یا پہاڑ پر ہی نا چڑھ جائے اور فوج "جنگ ہے" کا اعلان سننے کے لئے ترستی رہے۔ ظاہر ہے وزیراعظم فوج کا کمانڈر ان چیف ہوتا ہے اور ہر وقت حاضر الموجود چاہیے۔

 

منشور۔ سب سے بڑھیا بات ہم بھول ہی گئے۔ ووٹ دیتے وقت دیکھئے اور سوچئے کہ وعدہ کیا ہے، کر کون رہا ہے اور پچھلے وعدوں پر اسکی کارکردگی کیا ہے۔ عمران خاں نے کیا کرپٹ کا احتساب اپنے صوبے میں یا  اور قول و فعل کا تضاد تو نہیں کیا ایک ارب درخت لگے اور کیا میٹرو بنا کرپشن مکمل ہوئی-انہی تین چیزوں کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر اپلائی کریں ۔ بلاول کے ابا تو غالباً سیکنڈ سیٹ پر سیف ہیں لیکن شہباز شریف نے میٹرو بس المعروف جنگلہ بس مقررہ مدت میں کم قیمت پر نہ صرف بنائی بلکہ مکمل کی اور انہوں نے فیصل آباد اور بہاولپور میں دو جگہ میٹرو بس ایک سال سے کم عرصے میں بنانے کا وعدہ بھی کر ڈالا ۔ دو جگہ یونیورسٹی بنانے کا وعدہ بھی کیا۔ کیا یہ قابل یقین ہے۔ ٹریک ریکارڈ دیکھیں اور فیصلہ کریں۔ عمران خان نے دس ملین جاب اور ۵ ملین گھر پہلے سو دن میں دینے کا وعدہ کیا ہے کیا یہ وعدہ فردا ہے یا سو ارب درختوں کی طرح داخل دفتر ہو جائیگا۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

 

اقتصادیات: سب سے بڑا روپیہ ہی اصل کھیل ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کو گرتے روپے اور ڈالر کی قیمت میں استحکام لانا جیسے چیلنج ہیں - اسحق ڈار کو آپ دھکے دے کر واپس روانہ کر چکے اور اب اسد عمر ،نوید قمر اور مفتاح اسمعیٰل نے یہ بتانا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون اور کیسے باندھے گا۔ اقتصادی استحکام داخلی اور خارجی استحکام جتنا لازمی ہے اور ہم تقریباً عالمی مالیاتی اداروں کے در پہ کھڑے ہیں - وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ غور کیجئے کیونکہ ڈار صاحب کہ رہے ہیں کہ کیا آپ مجھے یاد تو نہیں کر رہے اور میں ہوں نا-

 

آزاد عدلیہ: ووٹر کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انصاف اور اسکے معیار کو بہتر کرنے کے لئے کس کے پاس جامع پروگرام ہے۔ عام آدمی تک انصاف کی اسکے دہلیز پر رسائی نیوکلیائی تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ۔ کون وہ تبدیلی لائے گا۔ کیا عدالتیں انصاف کے لئے اعلی عدالتوں کے از خود نوٹس کی محتاج ہوں گی تاکہ انصاف ہو یا مقامی عدالتوں کو مضبوط بنا کر 6 ماہ سے ایک سال میں چھوٹے مقدمات کو عدالتی اصلاحات سے یقینی بنایا جائے گا۔ دونوں بڑی پارٹیاں انصاف کی داعی ہیں بلکہ ایک پارٹی توپو ری تحریک ہے اور دوسری ججوں سے انصاف کے لئے لانگ مارچ کر چکی ہے ۔ دیکھئے سوچئے اور فیصلہ کیجئے۔

 

ملٹری اور قومی سلامتی کے معاملات۔ سب سے بڑا مسلۂ تینوں جماعتوں کے لئے جو کہ داعی ہیں اینٹ سے اینٹ بجانے کے، آزادانہ داخلہ اور خارجہ پالیسی کے اور ووٹ کو عزت دو کی کے کہ وہ سول اور ملٹری بیروکریسی کے ساتھ اپنے معاملات کیسے تشکیل دیتے ہیں۔ عمران خان جذباتی، اور شہباز شریف عملیت پسند ہیں ۔ گرچہ نواز شریف کا لہجہ آمریت پسند جرنیلوں کے خلاف حوصلہ افزا نہیں لیکن انہوں نے 2014 کے دھرنے میں انہیں نقصان پہچانے والے حاضر و ریٹائرڈ افسران کی بیخ کنی یا سرزنش بھی نہیں کی اور انکے خلاف ملکی مفادات کو کوئی نقصان پہچانے کا الزام نہ ہے ایسے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ انڈیا امریکہ اور بین الاقوامی دنیا سے تعلقات کیسے ہوں گے اور کون سی پارٹی کیا کلیم کرتی ہے اور فوج کا اس فیصلے پر کیا اور کتنا اثر ہوگا اور حکمران پارٹی کتنا اثر قبول کرنے کی عوامی طاقت رکھتی ہے ۔ کیونکہ کمزور کے لیئے مائی وے یا ہائی وے والا حساب ہے۔ عمران خاں ابھی لمبے چوڑے دعوے کر رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ جو ان سے ۳ دفعہ معاملات کر چکے ہیں انکا تجربہ کیا کہتا ہے۔ زرداری صاحب اپنی مدت مکمل کرکے گئے، نواز شریف بھی بتدریج مدت اسی انداز میں مکمل کرکے گئے ہیں اور دونوں اپنے وزیراعظم گنوا کر گھر گئے کیا اب تیسرے مدت کوئی مکمل کر پائے گا کیونکہ وزیراعظم آفس اب بہت کمزور ہو چکا ہے، یہی چیلنج ہے۔

 

میں تو اسے ووٹ دوں گا جس کے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ ہو جس پر اسکے گھر والے اعتبار کرتے ہوں جس کی ساکھ کی قسمیں زمانہ دیتا ہو- یہ خلفہ راشدین کا دور نہیں جہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالی کا عدل بولتا ہو یا وہ اپنی اضافی چادر کی صفائی دیں - یہ زمانہ جدید کے ہنر مند امیدواران کا دور ہے جو طاقت رعب اور جلوے کے بل بوتے پر غریب اور متوسط طبقے سے ووٹ مانگنے آرہے ہیں یہ پانچ سال بعد آپکا موقعہ ہے کہ خوب۔ چھان بین کے بعد ٹھوک بجا کر پرکھ کر مکمل جانکاری کرکے ووٹ دیں اور اسے ضائع ہونے سے بچائیں۔ اداروں سے گزارش ہے کہ لوگوں کو آزادی سے فیصلہ کرنے دیں تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔ اسی ووٹ نے یہ ملک بنایا تھا اسی ووٹ کو اسے بچانے بھی دیں-سنا ہے قیام پاکستان کے وقت فوج اپنی نہیں تھی انگریز سرکار کی تھی لیکن ملک پھر بھی حاصل کرلیا لیکن اب تو اپنی ہےاب تو اسے مضبوط بنانا ہی تو ہے۔ سول اور ملٹری طاقتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر لوگوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں معاونت کریں تاکہ لوگ مضبوط محسوس کریں اور مضبوط لوگ آگے آسکیں۔ الیکٹوریٹ پر عدم اعتماد ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔

 

 

آخر میں ،

آخرکار پاکستان بار کونسل نے ⁧‫جسٹس شوکت عزیزصدیقی⁩ کے الزامات کی تحقیق کے لئے کیس فل کورٹ میں لگا کر کھلی سماعت کا مطالبہ کر دیا ہے ۔سپریم کورٹ کے تمام ججز میڈیا اور بار کونسلز کی موجودگی میں کیس کی سماعت کریں ۔ معاملہ قالین کے نیچے دبانے سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان بار کونسل

کا بیان اور انکا جاگنا قوم اور آئین پاکستان کی حفاظت کے لئے خوش آئند ہے۔اللہ ملک پاکستان کی حفاظت کریں اور یہ دن دوگنی رات چگنی ترقی کرے-

 

 

بیرسٹر امجد ملک  ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چئیرمین اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن پاکستان کے تاحیات رکن ہیں 

 

24 July 2018

 No replies/comments found for this voice 
Please send your suggestion/submission to webmaster@makePakistanBetter.com
Long Live Islam and Pakistan
Site is best viewed at 1280*800 resolution