Search
 
Write
 
Forums
 
Login
"Let there arise out of you a band of people inviting to all that is good enjoining what is right and forbidding what is wrong; they are the ones to attain felicity".
(surah Al-Imran,ayat-104)
Image Not found for user
User Name: Amjad_Malik
Full Name: Amjad Malik
User since: 15/Jun/2007
No Of voices: 288
 
 Views: 139   
 Replies: 0   
 Share with Friend  
 Post Comment  

موت کا رقص

بیرسٹر امجد ملک 

 

بیگم کلثوم نواز کی لندن میں نماز جنازہ پر یاد آیا

 کہ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ "

‏‎‏‎ہمارے حق پر ہونے کی گواہی ہمارے جنازے دینگے" اور یہ بات کسی اور نے نہیں بلکہ

 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ارشاد فرمائی 

 

 

واقعتاً

  وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ 

اللہ جسے چاہیں عزت دیں اور جسے چاہیں زلت ۔ بیگم کلثوم نواز ہمارے معاشرے کی وہ ماں تھیں جو مدَر انڈیا کی طرح اپنے آپ کو اپنے رول میں ڈھال لیتی ہیں۔ وہ ایک فرماں بردار بیٹی اور ایک پہلوان گھرانے کی آن اور شان تھیں ۔ شادی ہوئی تو شوہر کی ہو لیں اور پھر پیچھے مڑ کے نہ دیکھا۔ میاں نواز شریف کو کوئی بادشاہ سمجھے یا نہ سمجھے بیگم صاحبہ نے انہیں ساری عمر اپنا باؤ جی بنا کے رکھا اور آخری وقت تک انکے لڑ سے لگ کے رہیں یا وہ انکے ہو کے رہےیہ ہی انکا راز تھا ۔ چار دہائیوں پہ محیط یہ رفاقت جس میں تین دفعہ عوامی عہدوں کی معراج فرسٹ لیڈی کے طور پر اپنے فرائض انہوں نےمکمل زمہ داری سے ادا کئے۔ شوہر سے محبت بھی کی اور اسکی زمہ داریوں اور رشتے داریوں کو ایسے بانٹا کہ بڑے بوڑھے اور بچے انکے جانے پہ سب غمگین تھے۔ وہ زاتی طور پر لوگوں سے تعلق بناتی اور رکھتی تھیں ۔ لوگوں کی پسند ناپسند کھانے پینے کا انکو بہت خیال ہوتا تھا۔ اپنے شوہر کے کام میں ایک ماہر ہم خیال یا ایک ایسا سنتا ہوا کان تھیں کہ طوفان کے طوفان رازوں سمیت دفن کرلئے اور مشکلات کے باوجود کبھی اپنی آئینی زمہ داریوں سے پردہ پوشی نہ کی۔ قربت دار جانتے ہیں کہ جو کام مشکل ہوتا تو وہ پارٹی اکابرین جو بات وزیراعظم سے کرتے جھجھکتے تھے وہ ان سے پہلے مشورہ کرتے اور حمائت کی درخواست کرتے۔ اردو ادب میں ماسٹرز ڈگری کی وجہ سے شائستگی انکی مزاج میں رچ بس گئی تھی جسکو انہوں نے پی ایچ ڈی کے زریعے جاری رکھا۔ مریم نواز ان سے بہت مختلف تھی اور ہیں اور وہ آسانی سے ہار نہیں مانتیں ۔

 

بیگم کلثوم نواز کا سیاسی ساتھ ایک خوشگوار یادگار کی طرح مسلم لیگی ساتھیوں کی یاد میں محو ہے۔ وہ 1999 کے مارشل لاٗ کے بعد جنرل مشرف کے سامنے ایسے سیسہ پلائی دیوار بنیں کہ دسمبر 2000 میں ان سے جان چھڑانے کے لئے تمام خاندان کو جلا وطن کرنا پڑا۔ وہ بلاشبہ سیاست میں حادثاتی طور پر نمودار ہوئیں لیکن جوں ہی انکے میاں بطور لیڈر سیاسی سین پر دوبارہ نمودار ہوئے وہ اپنی جگہ پر بغیر محسوس کئے اور کروائے واپس چلے گئیں جس کی وجہ سے سیاستدانی قبیلہ انہیں عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جسکا مظاہرہ انکے جنازے میں تمام مکتبہ ہائے فکر کے افراد کی شرکت نے کیا ہے۔ وہ کم گو، عوامی اور ایک شفقت سے بھرپور مکمل خاتون تھیں جن سے ملتے وقت ایک ماں کی سی شبیع ابھرتی تھی۔ انہوں نے جس طرح اپنے بچوں میں مذہب ،ثقافت اور زبان کی ترویج کی وہ ایک بے مثال خدمت ہے۔

 

شریف خاندان کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کی نئی داستان زیر تحریر ہے اور میاں نواز شریف ایک سیاسی قیدی کا طرح خاموشی سے رضائے الہی پر راضی حالات کو درجہ بدرجہ کھلتے دیکھ رہے ہیں- اپنی شریک حیات کو وہ پہلے ہی لندن سے خدا حافظ کہ کر کے آچُکے تھے اب اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی تلے دفنا بھی چکے ہیں ۔ بیٹی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں قیام ایک بےمثالی مستقبل پروان چڑھا رہا ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ایک استاد ایک ہونہار شاگرد کو نویں اور دسویں کلاس اکٹھے کروا دے۔ جس طرح مریم نواز شریف کو بیٹی ہونے کے ناتےرائج رسم و رواج کو پس پشت ڈال کر دشمنی کمائی گئی ہے اسنے مریم نواز کو مردانہ وار سیاسی مقابلے کے لئے ایک دم تیار کردیا ہے اور اب جب وہ مقابلے پر آتیں ہیں تو انکی بیلٹ پروہ سب ظلم و ستم ہوں گے جو سیاستدانوں کا زیور ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا منتر ابھی سر پہ چڑھ کے بولے گا جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پارلیمان میں کمر بستہ ہوکر حکومت کی جواب طلبی کریں گے۔ انہوں نے اچھے بھائی کی طرح اپنا کردار اس غم کی گھڑی میں خوب نبھایا ہے۔۔ مریم کے نیب کیس کی تاریخ تو شائید ضرور لکھی جائے لیکن تاریخ اسے اچھی نظروں سی نہیں دیکھے گی ۔ میاں نواز شریف کا تو شاید چہرہ پسند نہیں تھا لیکن جج پھر بھی مان کر گیا کہ عوامی پرس میں غبن نہیں ہوا ۔ مریم کے ساتھ کیا ہوا ابھی تک وکی لیکس، ڈان لیکس اور ڈان لیکس کے ڈانڈے ملانے کی کوشش کررہے ہیں ۔دانشور اور جیورسٹ اس فیصلے پر پریشان ضرور ہیں کہ سب کے احتساب کے نعرے لگاتے معاملہ اب تک تو صرف شریفوں کے اڈیالہ جانے تک محدود ہے۔ کیپٹن صفدر تو بے چارہ سابق وزیراعظم کی رشتے داری کی وجہ سے مارا گیا کیونکہ جو الزام ان پر لگا وہ کام تو گورے وکیل جیریمی فری مین نے بھی کیا تھا یعنی ٹرسٹ ڈیڈ پر گواہ کے طور پر دستخط لیکن کپتان ایک سال کے لئے اندر گیا اور دوسرے کا زکر بھی نہیں یہ کھلا تضاد نہیں ہے کیا۔ 

 

اگر ہم الیکشن کے بعد نئی حکومت کی بات کریں تو ان سے حالات سنبھل نہیں رہے اور ایسے لگتا ہے نہ کوئی ہوم ورک ہے نہ کوئی پالیسی اور نہ ہی کوئی ٹیم ۔ بھینسوں کے دودھ ، ۵۵ روپے کا ہوائی سفر اور پروٹوکول لیا یا نہیں لیا ان باتوں  پر آجکل میڈیا میں گزارہ چلُ رہا ہے۔ اوپر سے شیر کو اندر رکھنا اسے باہر نکالنے سے بھی خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ نیب کے ہاتھ پیر پھول رہے ہیں ۔ برطانیہ میں تو کیس ہارنے پر خرچہ اور ہر دن اگر غیر قانونی ہو تو جیل کے اندر رکھنے کا ہرجانہ بھی دینا پڑتا ہے۔ سنا ہے ٹاپ جیورسٹ بھاشا ڈیم کی مخالفت کرنے والوں پر آرٹیکل سکس لگانے کے در پہ ہیں اور کہنے والے کہ رہے ہیں کہ یہ آرٹیکل پڑھ لیں اور جس پر لگایا ہے اسکا تو کوئی حساب کر لیں باقی گھوڑا بھی حاضر ہےاور میدان پہلے ہی صاف ہےاور دانشمندانہ رائے یہی ہیے کہ انصاف پر نظر رکھیں اور نوٹنکی کے لئیےکافی لوگ ہیں اسلام آباد کے گردو نواح میں۰ آرٹیکل 6 پر عمل درآمد ابھی دلی دور است کےمترادف مشکل ہے۔جمہوریت ،جمہوری رویےاورجمہوری اداروں کو مضبوط ہونے میں ابھی مزید وقت لگے گا! تب تک ضد انا اور سیاسی بے رحمی ہی زمانہ جدید کے اسباق ہیں اور نوے کی دھائی کی سیاست پروان چڑھائی جارہی ہے ‏. بیگم صاحبہ کے جنازے نے میثاق جمہوریت کی یاد تازہ کی ہے۔ مشورہ یہی ہے کہ انصاف کیجئے صاحب بس انصاف انصاف اور بس انصاف یہی آپکا کام ہے بعد میں صرف باتیں رہ جاتی ہیں اور بڑے بڑے جیورسٹ سے قبرستان بھرے پڑے ہیں  -  حسینیت اور یزیدیت کا سبق ہی یہ ہے کہ کہانی انکی گر نہ ہوتی تو ظالم جا بجا ہوتے - شریف خاندان کا یہ جرم ہے کہ عوام ان سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں اور ان سے ابھی تک چمٹے ہوئے کیوں ہیں ان پر تا حیات فرد جرم لٹک رہی ہے ۔ ہمیں یاد یہ رکھنا چاہیے کہ ایک عدالت اوپر بھی تو ہے جو اللہ کی عدالت ہے اور وہ چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا اور وہ نہ چاہے تو موت کا رقص گھر گھر ہو کیونکہ مرنا ایک دن سب نے ہے۔ آخر میں شاعر کے اس شعر کے ساتھ کہ اسلامی معاشرہ اتنا بھی بےحس نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کی موت کا اعتبار ہی نہ ہو۔  شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ - وہ کر نہیں رہا تھا میری بات کا یقیں پھر یوں ہوا کہ مر کے دکھانا پڑا مجھے-  ⁦‪اللہ بیگم صاحبہ کو جنت آلفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں اور ہمیں موت کے آفاقی پیغام سے سبق حاصل کرنے کی ہمت عزم اور توفیق عطا فرمائیں ( آمین) 

 

بیرسٹر امجد ملک برطانوی اے پی ایل وکلاُ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں اور انسانی حقوق کا سن ۲۰۰۰ کا بہترین وکیل کا ایوارڈ رکھتے ہیں اور ہیومن رائیٹس کمیشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے تا حیات ممبر ہیں ۰

 

16 September  2018




 No replies/comments found for this voice 
Please send your suggestion/submission to webmaster@makePakistanBetter.com
Long Live Islam and Pakistan
Site is best viewed at 1280*800 resolution