Search
 
Write
 
Forums
 
Login
"Let there arise out of you a band of people inviting to all that is good enjoining what is right and forbidding what is wrong; they are the ones to attain felicity".
(surah Al-Imran,ayat-104)
Image Not found for user
User Name: Amjad_Malik
Full Name: Amjad Malik
User since: 15/Jun/2007
No Of voices: 287
 
 Views: 157   
 Replies: 0   
 Share with Friend  
 Post Comment  

عوامی عدالت کا فیصلہ ؟

بیرسٹر امجد ملک 

 

نہ ہم بدلے اور نہ ہی انداز مستانہ اور بالآخر وعدے پر عمل کرتے ہوئے عمران خون کو قوم پر مسلط کردیا گیا۔ یہ بجلی نو سال کے اقتدار کے بعد حزب اختلاف پر عوامی غضب نے گرائی ہے یا جھرلو 2018 کے پیچھے الیکشن سے پہلے کے محرکات کا تسلسل ہی اس تباہی کا باعث تھے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ اورانکے چیدہ چیدہ ساتھیوں کی نا اہلیاں توہین عدالت کے زریعے زباں بندی اور میڈیا کے اوپر ان دیکھے گیگنگ آرڈرز اس بات کی طرف اشارہ کررہے تھے کہ نواز شریف اپنے خدا پر یقین رکھتے ہوئے دنیاوی خداؤں سے الجھ بیٹھے ہیں۔ اپنے قائد اور لیڈر کے ہوتے ہوئے انکے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف نے خوب دوڈ لگائی لیکن وہ کافی نہ تھی اور وہی ہوا جسکا ذکر مہینوں سے زبان ذد عام تھا۔ 

 

الیکشن میں عام عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ خواتین نے جس طرح اس انتخاب میں حصہ لیا خاص طور پر خیبر پختونخواہ میں وہ قابل رشک ہے۔ چھے بجے شام تک لوگ خوش تھے کہ انتخاب پر امن طور پر مکمل ہو ا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں تعریفی کلمات اور پیغامات موصول ہو رہے تھے ۔ حزب اختلاف نے پولنگ ایک گھنٹہ آگے کرنے کی درخواست کی اور اسکے مسترد کئے جانے ہر بھی شور نہ ہوا یہ پرامن انتخابات کی طرف اچھی پیش قدمی تھی۔ 

 

لیکن جب میڈیا نے قبل از وقت غیر حتمی اور نامکمل نتائج دینے شروع کردئے اور جب مکمل گنتی سے پہلے اور فارم 45 دئیے بغیر پولنگ سٹیشن سے سیاسی پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹس کو نکال کر کنڈیاں لگائی گئیں تو تمام سیاسی پارٹیاں بیک وقت چلا اٹھیں۔ 

عوامی زہن سازی نامکمل نتائج سے کی جارہی تھی اور ن لیگ متحدہ مجلس عمل اور پیپلز پارٹی اسے بروقت سمجھنے سے قاصر رہی یا یہ انکی غفلت تھی۔ مشاہد حسین کا دھاندلی بچاؤ سیل کا عملہ بھی شائد پرامن انتخاب کے اختتام پر سونے چلا گیا اور جیسا کہ مشہور ہے کہ معاملہ یہ نہیں کہ ووٹ ڈالا کس نے ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ اسے گنتا کون ہے اور کیا وہ آپکا ووٹ آپکے پولنگ ایجنٹ کے سامنے گن بھی رہا ہےیا نہیں یہی ایک ملئین ڈالر کا سوال ہے۔ الیکشن کمیشن نے گنتی میں غفلت کے تمام مروجہ قوانین اور روایات پامال کردیں۔ احتجاج نامنظور اور دھاندلی نہیں چلے گی اور انتخاب کالعدم بھی ہوسکتا ہے کی ملک بھر میں صدائیں سن کر پہلے سیکرٹری الیکشن کمیشن اور پھر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خاں اپنے ممبران جو کہ زیادہ تر جج واقع ہوئے ہیں نمودار ہوئے اور علی الصبح راولپنڈی سےپہلا حتمی نتیجہ سنایا اور دیر سے نتیجے کی تمام تر زمہ داری نئی ٹیکنالوجی پر ڈال کر یہ جا وہ جا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سو فیصد شفاف ہے اور اس میں کوئی داغ انہیں نظر نہیں آرہا۔ آر ٹی ایس نظام کے فیل ہونے کی زمہ داری انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور وہ کون سا جسٹس فخر الدین جی ابراہیم تھے کہ استعفی لکھ کر لائے ہوتے۔ انُکی بے تکی منتق اور نااہلی کی وجہ سے عوام نے پرامن انتقال اقتدار کا ایک اور موقعہ ضائع کردیا۔ اب چاہے لوگ عمران خان کے لئے مرے ہی جارہے تھے الیکشن کمیشن نے حزب اختلاف کو وہ چورن فراہم کردیا جسکو استعمال کرتے ہوئے وہ حکومت کے بننے سے پہلے ہی اس پر چڑھ دوڑےگی۔ انہوں نے عوام کو انتخابات پر کامل یقین اور اعتماد اور ہارنے والے کو باعزت طریقے سے مینڈیٹ کا احترام کرنے کے حق سے محروم کردیا ، قوم کبھی انہیں معاف نہیں کرے گی۔ پاکستان ایسے تماشوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جیتنے والے کا حق تھا کہ ہارنے والا اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے اسے مبارک دیتا یہاں وقت پر نتیجہ آتا تو ہی مبارک سلام ہوتا۔ پولنگ پر امن تھی 6 بجے کے بعد کیا ہوا اب واللہ عالم الیکشن کمیشن جواب دے ، پارلیمان جواب لے اور چیف جسٹس اس جواب کے لینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ الیکشن کمیشن نے 21 ارب میں قوم کی واٹ لگادی یہ کام تو فری میں بھی ہوسکتا تھا جیسے ہوتا آیا ہے لیکن عوام کے زریعے احتساب کا مزہ بحرالحال کرکرا کردیا گیا۔ 

 

عمران خان حکومت بنانے جا رہے ہیں اور جس طرح اندیشہ تھا یہ مخلوط حکومت کم از کم تین دھڑوں پر مشتمل ہوگی جس کے کئی وارث ہوں گے۔ پہلے سو دن میں اسکی ترجیحات واضح ہو جائیں گی۔ جس طرح انکے ہاتھ میں چھانٹا پکڑایا تھا لگتا نہیں ہے کہ انکو اس بیانئے سے ہٹنے دیا جائیگا اور اب حزب اختلاف کی کمر ہوگی اور حکومت وقت کا چھانٹا ۔ اپوزیشن کسی بھی طرح کی مفاہمت اور مصالحت کی سیاست کی امید سے پرہیز کرے۔اگر عمران خاں پنجاب میں حکومت بناتے ہیں تو بھڑوں کے چھتے میں انکا ہاتھ ہوگا اور مفاہمت کے تمام امکانات دار مفارقت دے جائیں گے اور شہباز شریف کو لنگوٹا کسنا ہوگا ۔ عمران خاں کو بنی گالہ کو یتیم خانہ بنانے سے آغاز کرنا چاہیے اور پہلے سو دن میں جو کرنا چاہتے ہیں کر گزریں۔ سو دن بعد ہماری بیروکریسی انہیں ایسے شیشے میں لگائے گی جس میں سب اچھا سب صاف اور سچ کہنے والے انکواپنے دشمن نظر آئیں گے ۔ جن کو وہ اب ساتھ بٹھا رہے ہیں وہ شائد دو دو سال انہیں مل بھی نہ پائیں اور ان میں وہ وہ عیب نکلیں جنکا ان مظلوموں کو پتہ بھی نہ ہو۔

 

حزب اختلاف کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسکو لیڈ کون کرے گا۔ دس سال حکومت میں رہنے کے بعد شہباز شریف مولانا فضل الرحمن اور زرداری صاحب (اگر وہ حکومت میں نہ گئے تو ) زنگ آلود ہو چکے ہیں ۔ انکو اپنی چھریاں کانٹے تیز کرنے میں وقت درکار ہوگا لیکن تینوں جماعتوں کی اپنی اپنی افادیت ہے اور جوڑ توڑ مولانا اور زرداری صاحب پہ ختم ہے۔ کوئی بھی سیاسی جنگ مختلف محاز پہ لڑی جائیگی سیاسی عوامی قانونی میڈیا اور بین الاقوامی سطح پر جس کے لئے ایک گرینڈ الائنس درکار ہوگا۔ حکومت چاہے گی کہ شیر قید میں رہے اور حزب اختلاف کی آنکھیں شیر کی آمد کے لئے فرش نشین ہوں گی۔ اس موقع پر مریم نواز شریف کی واپسی ٹارزن کی واپسی ہوگی جو حکومت وقت کو بہت سارے چیلنجر ایک ساتھ پیش کرسکتی ہیں ۔ نوجوان خون ، انتقامی احتجاجی سیاست اور نیا چہرہ حزب اختلاف کی سیاست میں ایک نئی روح پھونک سکتا ہے۔ رانا ثنا اللہ بھی مسلم لیگ ن کے قائد کے ساتھ ملکر ایک بہتر رول ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن حزب اختلاف کو اپوزیشن کا میڈیا سیل ابھی سے شروع کرنا چاہیے اور برطانوی طرز پر شیڈو کابینہ تشکیل دینی چاہیے تاکہ حکومت کی بروقت اور فوری جواب دہی کی جا سکے۔ اسں سلسلے میں پارلیمانی کمیٹیوں میں حزب اختلاف کی نمائندگی کرنے والے ممبر پارلیمنٹ شیڈو وزیر کا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ مسلم لیگ نواز کو اپنی پارٹی بھی مکمل اوور ہال کرنی چاہیے تاکہ عہدوں پر دائمی مدت سے تعینات عہدیداران کو ہٹا کر تعیناتیاں نیا خون جرات اور ولولہ پیدا کرسکیں اور اپنے تجربے صلاحیت اور مہارت سے حزب اختلاف کو نئی کمک مہیا کرسکیں۔ 

 

اب جبکہ حزب اختلاف اور اسکے لیڈران جو آدھے سڑکوں پر اور آدھے جیل میں ہیں اس صورت حال میں میڈیا پر ایک بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حکومت کا صحیح احتساب کریں ۔ اسی لاکھ تارکین وطن سے آنے والی حکومت کے بڑے وعدے ہیں اور ووٹ کا حق اور حق نمائیندگی اوورسیز کمیونٹی میں ایک نئی روح پھونک سکتی ہیں۔  

 

مینڈیٹ کا احترام ہی باہمی احترام کا راستہ کھولے گا اور انتخاب کو شکوک سے بالاتر اور تکنیکی پیچیدگیوں سے آزاد رکھنا چاہیے ۔ فیڈرل یونٹس بہت مشکل سے آراستہ اور پیوستہ ہیں ۔ اس گلدستے کو انصاف اور قانون کی شفاف اور پرامن عمل داری سے سنبھال کے رکھئے  ۔ کوئی بھی بال ٹمپرنگ پورا نظام لپیٹ میں لینے کی استطاعت رکھتی ہے جسے سنبھالنا پھر نا ممکن ہوگا ۔ زرا سوچئےاور پاکستان کی سلامتی اور حفاظت قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں۔ نہیں تو کچھ دیر بعد نئے وزیراعظم یہ استدعا کررہے ہوں گے کہ 'مجھے کیوں نکالا' اور 'ووٹ کو عزت دو' حالانکہ عزت لو اور عزت دو کے متزاد عزت واپس وہی ملتی ہے جو آپ نے دی ہو۔ پاکستان زندہ باد اور پاکستانی پائیندہ باد

 

بیرسٹر امجد ملک :

بیرسٹر امجد ملک  ایسوسی ایشن آف 

پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چئیرمین اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن پاکستان کے تاحیات رکن ہیں

 

 

26 جولائی 2018

 




 No replies/comments found for this voice 
Please send your suggestion/submission to webmaster@makePakistanBetter.com
Long Live Islam and Pakistan
Site is best viewed at 1280*800 resolution